نئی دہلی، 2؍ ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پروفیسر بھیم کے ذریعہ ہندستان کی جیلوں میں برسوں سے قید تقریباً 250پاکستانی اورپاک مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی غیرقانونی، نامناسب اور غیر آئینی قید کے خلاف دائر عرضی کی حتمی سماعت کے لئے سپریم کورٹ کی جسٹس چلمیشور اور جسٹس اجے منوہر سپرے پر مشتمل ڈویزن بنچ نے 9ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے اپنی سزا مکمل کرچکے 59 پاکستانی قیدیوں کی، جن کے خلاف کوئی جرم نہیں ہے لیکن ان کی قومیت طے نہیں ہوسکی ہے،رہائی پرزوردیا۔انہوں نے کہاکہ یہ لوگ ملک کی مختلف جیلوں میں بند ہیں اور ان میں سے کچھ دہلی،الور(راجستھان)،اترپردیش،امرتسر (پنجاب)، بھج کے حراستی مرکز میں اور کچھ جموں وکشمیر اور راجستھان کی جیلوں میں بند ہیں۔انہوں نے کہاکہ تمام قیدیوں کو جیلوں سے حراستی مرکز میں بھیجنے کے سپریم کورٹ کے حکم پر مکمل طورپرعمل نہیں کیاگیاہے۔سپریم کورٹ نے اپنے28-2-12 کے حکم میں کہا تھا کہ جو 37پاکستانی قیدی اپنی سزا مکمل کر چکے ہیں اورجن کے خلاف کوئی معاملہ زیرِالتوانہیں ہے یا پھر جن کی قومیت طے نہیں ہوسکی ہے، انہیں بنیادی انسانی حقوق اور انسانی وقار سے محروم نہیں رکھاجاسکتا۔انہوں نے کہاکہ اب یہ تعدا دبڑھ کر 37سے حکومت کی طرف سے داخل حلف نامہ کے مطابق59 ہوگئی ہے اور یہ لوگ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود جموں وکشمیر ، راجستھان اور ملک کی دیگر جیلوں میں بندہیں جو حکومت ہند اور جموں وکشمیر کے ذریعہ عدالت کے حکم کی صریحی خلاف ورزی ہے۔